ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک میں پی یو سی نتائج کے اعلان پر روک؛رپیٹرس کو پاس کرنے کی عدالت سے درخواست

کرناٹک میں پی یو سی نتائج کے اعلان پر روک؛رپیٹرس کو پاس کرنے کی عدالت سے درخواست

Wed, 16 Jun 2021 13:44:49    S.O. News Service

بنگلورو، 16؍ جون (ایس او نیوز) جاریہ سال میں  پی یو سی سال دوم طلبا کو امتحان کے بغیر پاس کرنے کا حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں ان طلبا نے بھی عرضی دائر کی جو پچھلے امتحانات میں فیل ہوگئے ہیں۔ اس لئے ان کو رپیٹرس کہا جاتا ہے۔ عرضی میں انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس سال تمام طلبا کو حکومت امتحان کے بغیر پاس کررہی  ہے تو ان کو بھی بغیر امتحان کے پاس قرار دیا جائے ۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بارے میں اپنی رائے اور تفصیلات پیش کریں۔ 

 شہر کے گیان مندر ایجوکشن ٹرسٹ کے عہدیدار ایس وی سنگھرے گوڑا نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ پی یو سی سال دوم طلبا کو امتحان کے بغیر پاس کرنے حکومت کا نوٹیفکیشن منسوخ کیا جائے۔ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنج نے اس عرضی کی سماعت کی۔ عرضی گزار کے وکیکل  آر پی سوم شیکھریا  نے عدالت کے روبرو بحث کرتے ہوئے کہا  کہ جاریہ سال میں پی یو سی سال دوم  طلبا  کو حکومت نے پاس کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پی یو سی سال اول کے امتحانات کا جائزہ لے کر ان کو پاس کیا جائے گا۔ یہ سہولت رپیٹر طلبا کے لئے بھی ہونی چاہئے ۔ ایسا نہیں ہوا تو طلبا کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ عدالتی بنچ نے حکومت سے کہا کہ رپیٹرس طلبا کو بھی فرسٹ پی یو سی کے مارکس کے لحاظ سے پاس کرنے کے بارے میں ریاستی حکومت اپنا موقف ظاہر کرے۔ عدالت نے اگلی سماعت 17 جون تک ملتوی کردی۔ 

عرضی  گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جاریہ سال 7 لاکھ طلبا کو پی یو سی سال دوم امتحانات میں شرکت کرنا تھا۔ لیکن کووڈ۔19 کے سبب حکومت نے امتحان کے بغیر تمام کو پاس کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے لئے فرسٹ پی یو سی کے مارکس کو بنیاد بنایا جائے گا۔ لیکن 3 ؍ جون کو جاری کردہ نوٹیفکیشن میں حکومت نے رپیٹر س  طلبا کو پاس کرنے کے بارے میں کوئی بات نہیں بتائی ہے، اسی طرح پرائیورٹ طلبا کے لئے بھی یہ سہولت نہیں دی گئی ہے۔ اس لئے طلبا کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ 

ریاست میں 95000 رپیٹرس طلبا  ہیں ، ان تمام کو پاس کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو حکومت کو نوٹیفکیشن واپس دیا جائے ۔ 


Share: